نکسل کو مذہب کا اینگل دینے کی کوشش ہی ذہنی دیوالیہ پن کا نتیجہ ہے. نکسل علاقے میں گھستے ہی اس کا اندازہ ہو جاتا ہے. بنگال کے نکسل باڑی سے شروع ہوا نکسل تحریک کافی بدل چکا ہے. اس کا مقصد اور شکل اصل سے مختلف ضرور ہوتا جا رہا ہے. لیکن، اب بھی یہاں مذہب کوئی مسئلہ نہیں ہے. خالی پیٹ بھجن نہیں ہوتا، اور بھوک آج بھی نکسل متاثرہ علاقے میں راج کرتی ہے.
آر ایس ایس کے ایک لیڈر نے نکسلیوں اور چرچ پر ایک ساتھ حملہ کیا ہے. آر ایس ایس کے لیڈر اندریش کمار نے رائے پور میں ایک پروگرام میں کہا کہ آخر نکسلی چرچ اور عیسائیوں پر حملے
کیوں نہیں کرتے ہیں؟ اندریش کمار یہیں نہیں رکے، بلکہ یہ بھی پوچھا کہ کیا نکسلیوں کا چرچ سے کوئی کنکشن ہے؟ یہ بہت لاپرواہی بھرا بیان ہے. ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نکسل جیسے سنگین مسئلے پر آر ایس ایس کیا سوچتی ہے.
خدا سے یہی دعا کی جا سکتی ہے کہ حکومت کی سوچ یہ نہ ہو. کیونکہ جہاں لوگ آج بھی ننگے بدن گھومنے اور بھوکے پیٹ رہنے پر مجبور ہوں وہاں کوئی مذہب کر ہی کیا سکتا ہے. نکسل کا آغاز بھی کسی '' جہاد 'کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ ترقی کی بوند کے انتظار میں ترستے لوگوں کے غصے کے درمیان یہ پیدا ہوا تھا.
Kareem Aarifi
Kareem.khan95@gmail.com